فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 231

۲۳۱ برتھ کنٹرول بوجه کمی اجناس نکاح بچوں کی پیدائش کو ضبط میں لانے کا مسئلہ ان لوگوں کے نزدیک درست ہے جو اول تو وطنیت کے پرستار ہیں۔اسلام تو ساری دنیا کو ایک وجود قرار دیتا ہے۔کس نے کہا کہ لوگ وطنیت کے پرستار ہو کر اپنے لئے مشکلات پیدا کر لیں۔ان کو اپنا نقطہ نگاہ بدلنا چاہئے اور بین الاقوامی ذہنیت پیدا کرنی چاہئے۔پھر ایک ملک میں آبادی کی زیادتی کے کوئی معنی ہی نہیں ہوں گے ساری دنیا کی زیادتی، زیادتی ہوگی اور جہاں تک دنیا کے پھیلاؤ کا سوال ہے ابھی دنیا کی آبادی کے بڑھنے کے لئے گنجائش باقی ہے۔دوسرے یہ کہ اسلام اس کو تسلیم ہی نہیں کرتا کہ غذا کی پیدا وار اتنی ہو رہی ہے جتنی کہ ہونی چاہئے۔قرآن کریم کی بعض آیات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ غلہ تین چار سومن فی ایکڑ پیدا ہوسکتا ہے۔بلکہ اس سے بھی زیادہ پیدا ہوسکتا ہے۔لیکن اوسط پیداوار دنیا کی پانچ من ہے۔اس کے تو یہ معنی بنتے ہیں کہ ابھی اس زمین کا غلہ جو کہ زیر کاشت ہے اسی گنے بڑھایا جا سکتا ہے اور اگر ان زمینون کو بھی شامل کر لیا جائے جو افریقہ، آسٹریلیا اور کینیڈا وغیرہ ممالک میں اور روس کے بعض حصوں میں خالی پڑی ہیں تو ان کو ملا کر تو غلہ غالباً موجودہ غلہ سے تین چار سو گنے زیادہ پیدا ہوسکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں دنیا کی آبادی تین چار سو گنے ابھی بڑھ سکتی ہے۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کس نے کہا ہے کہ صرف زمین ہی ہمارے لئے غذا پیدا کرتی ہے۔ممکن ہے کہ آئندہ سائنس ایسی ایجادیں کرلے جن کے ماتحت مصنوعی غذا ئیں تیار ہوسکیں یا سورج اور ستاروں کی شعاعوں اور روشنیوں سے غذا ئیں تیار کی جاسکیں پس پہلے اپنے ایک محدود علم کے ماتحت ایک نظریہ بنالینا اور پھر خدا کو اس کے تابع کرنا یہ کون سی عقل کی بات ہے۔اسلام اس بات پر قطعی روشنی ڈالتا ہے کہ غذا کے خیال سے اولاد کو کم نہیں کرنا چاہئے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ اور بعض