فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 230

۲۳۰ نکاح پرورش اور صحیح رنگ میں تعلیم وتربیت مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گی۔تو از روئے اسلام ان میاں بیوی کو برتھ کنٹرول یعنی ضبط تولید کی اجازت ہے یا نہیں۔اگر عورت کی زندگی یا صحت بچانے کے لئے ضبط تولید کی اجازت ہے تو بچوں کی صحت بچانے اور ان کی اچھی طرح سے پرورش کرنے اور تعلیم و تربیت کرنے کے لئے کیوں اس امر کی اجازت نہ ہو؟ جواب :۔حضور نے فرمایا۔آپ کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے اپنا ایک ماحول تجویز کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمارے اس ماحول کے مطابق خدا تعالیٰ کا قانون یہ ہونا چاہئے۔سوال تو یہ ہے کہ یہی ماحول لڑائی کے دنوں میں قوم کا ہوتا ہے یا نہیں؟ کیاما ئیں اس وقت نہیں کہتیں کہ ہمارے بچے قتل ہونے کے لئے کیوں جائیں۔آپ اس وقت کیا کہیں گے۔کیا یہ کہ اس قسم کا ماحول ہے بچے قتل ہوتے ہیں قوم کا نقصان ہوتا ہے ہم کیا کریں۔آج کل تو آپ کہتے ہیں پچاس ساٹھ روپے ماہوار ملتے ہیں جس میں زیادہ آدمیوں کا گزارا نہیں ہوسکتا۔سوال تو یہ ہے کہ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے یا نہیں کہ بعض کو پچاس بھی نہیں ملتے۔بعض کو نوکری بھی نہیں ملتی۔اس کو آپ روٹی کہاں سے کھلاتے ہیں۔کیا اس کے لئے یہ جائز قرار دیتے ہیں کہ وہ ڈر کے مارے اور لوگوں کا مال اُٹھالے۔تکلیفیں بے شک ہوتی ہیں لیکن ہمیشہ چھوٹی سکیمیں بڑی سکیم کے ماتحت قربان کی جاتی ہیں۔بڑی سکیم یہی ہے کہ نسل انسانی کو بڑھنے دو۔جیسا اس کے مصائب انتہا کو پہنچیں گے وہ خود اپنا علاج نکال لے گی اور قانون قدرت کی طرف لوٹے گی۔آپ کی انہی دلیلوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کو تباہ کیا ہے۔اگر مسلمان تبلیغ اسلام کرتا اور اگر مسلمان بچے پیدا کرتا تو اس میں کوئی شبہ نہیں وہ بھو کے مرتے لیکن بھوکے مرنے کی کوئی حد ہوتی ہے ایک دن جا کر بند ٹوٹ جاتا ہے اور وہی بھوکا مرنے والی قوم بادشاہ بن جاتی ہے۔مسلمانوں کے ہاں تو کثرت ازدواج بھی ہے۔وہاں تو اور بھی زیادہ بھوکے مرنے والے بچے پیدا ہونے چاہئیں۔اگر یہ فاقہ کرنے والا بیس کروڑ ہندوستان میں ہو چکا ہوتا تو کیا وہ حال ہوتا جو آج ہوا۔ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلمان بجائے ایک ٹکڑہ پر راضی ہونے کے آج سارے ہندوستان پر حکومت کرتا۔الفضل ۲۴ را پریل ۱۹۵۲ء جلد ۴۰ نمبر ۶ صفحه ۴)