فرموداتِ مصلح موعود — Page 232
۲۳۲ نکاح باتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے اولاد بند کی جائے مثلاً عورت ایسی بیماری میں مبتلا ہو کہ ڈاکٹر کہہ دیں کہ اس کو حمل ہونا اس کی جان کے لئے خطرناک ہے اس صورت میں اسلام بے شک اس کو جائز قراردے دے گا۔(الفضل ۱۷۵اپریل ۱۹۵۲، جلد۴۰ نمبر ۶ صفحهی) دوسری شادی نکاح ثانی ہماری جماعت میں بعض ایسے نکاح ہو چکے ہیں جو میرے زمانہ خلافت سے پہلے کے ہیں۔اس میں بعض مصالح کی وجہ سے میں دخل نہیں دیتا مگر جو اب دوسرا نکاح کرتا ہے وہ چونکہ اس معاہدہ سے کرتا ہے کہ عدل وانصاف کرے گا۔اگر وہ اس کے خلاف کرے تو اس سے مقاطعہ کرنا چاہئے کیونکہ کوئی ایک کو مرتد کرتا ہے کوئی دو کومگر ایسا آدمی لاکھوں کو اسلام سے متنفر کرتا ہے اور ہماری آنکھیں دشمن کے مقابلہ میں نیچی کراتا ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ ایسی شادیاں اس سال بھی ہوئی ہیں اور لوگ یہ جانتے ہوئے ان میں شامل ہوتے ہیں کہ پہلی بیوی سے تعلق نہ رکھا جاوے گا ایسے لوگ خواہ کتنے ہی عزیز ہوں ان سے سختی سے برتاؤ کرنا چاہئے۔اور ان سے تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔یہ نکاح جنہوں نے کئے ہیں میرے نزدیک وہ لوگ ایسے ہیں جیسے کہ مر گئے۔ہمارا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء۔صفحہ ۲۶) ھربیوی کے لئے علیحدہ علیحدہ مکان ھونے چاہئیں ہمارے ملک میں ۸۰ فیصدی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دو عورتوں کو پیٹ بھر کر روٹی نہیں دے سکتے۔ایسے لوگوں کے لئے فواحدۃ کا حکم ہے کہ وہ ایک ہی شادی کریں باقی ہیں فیصدی لوگ رہ جاتے ہیں ان میں بعض لوگ عدل نہیں کر سکتے۔بعض کے قومی جسمانی مضبوط نہیں ہوتے بعض کے جسمانی