فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 198

۱۹۸ نکاح سوال:۔ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ایک لڑکی دائمۃ المرض ہے باوجود تین سالہ تلاش کے اس کے رشتہ کے لئے کوئی احمدی مائل نہیں ہوا۔پس اس کا رشتہ ایک غیر احمدی سے کرتے ہیں کہ لڑکی کے رشتہ کی نسبت اس کے والدین کی حالت فَمَنِ اضْطُر کے ماتحت ہے؟ جواب : خلیفتہ المسیح الثانی نے جواب میں لکھایا کہ فَمَنِ اضْطُرَّ تو صرف کھانے کی چیزوں کے متعلق ہے۔الفضل ۹ رمئی ۱۹۱۵ء۔جلد نمبر ۱۳۷ صفحه ۲) سوال:۔کیا جو شخص احمدی کہلاتا ہے، چندہ بھی دیتا ہے، تبلیغ بھی کرتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم صریح کے خلاف کہ غیر احمدی کو اپنی لڑکی نکاح میں دینا جائز نہیں ، اپنی لڑکی کا نکاح کر دیتا ہے۔وہ ایک ہی حکم توڑنے سے مسیح موعود علیہ السلام کے منکروں سے ہو سکتا ہے؟ جواب :۔جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی لڑکے کو دیتا ہے میرے نزدیک وہ احمدی نہیں۔کوئی شخص کسی کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔اگرلڑ کی خود ہی غیر احمدی ہے تو یہ الگ امر ہے۔یہاں اس بات کا سوال نہیں کہ ایسے آدمی نے شریعت کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ اس نے کون سا حکم توڑا ہے۔ایسا حکم توڑنے والے کے دل میں ایمان کی کوئی قدر نہیں۔سوال :۔جو نکاح خواں ایسا نکاح پڑھا وے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب :۔ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جا سکتا ہے۔جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندولڑکے سے پڑھ دیا ہو۔سوال :۔کیا ایسا شخص جس نے غیر احمدیوں سے اپنی لڑکی کا رشتہ کیا ہے دوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کر سکتا ہے؟ جواب:۔ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔غیر احمدیوں کے رشتہ میں کسی مذہبی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہورہی ہوتی جہاں چاہے کرے۔لیکن جو احمدی ہو کر اپنی لڑکی کی شادی کسی