فرموداتِ مصلح موعود — Page 193
۱۹۳ نکاح ہیں اور اس وحدت کا ثبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی ملتا ہے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے کہاں کہاں سے لوگ آتے ہیں اور آپس میں رشتے ہو جاتے ہیں۔میرے نزدیک ایک وجہ مختلف جگہوں اور مختلف قوموں میں تھوڑے تھوڑے لوگوں ( کی ) احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق ملنے کی یہ بھی ہے کہ اس طرح قومیت وغیرہ کی بندشیں توڑی جائیں کیونکہ اگر ساری کی ساری قوم احمدی ہو جائے تو آپس میں رشتے کر سکتے ہیں۔( خطبات محمود جلد ۳ - صفحه ۴۷) ہماری غرض دین ہی ہو عزیزہ امتہ السلام میرے بھائی کی لڑکی ہے مگر میں اپنی لڑکی کے متعلق بھی یہی پسند کروں گا کہ اگر دنیا میں کوئی دیندار نہ رہے اور ایک چوہڑا مسلمان ہوکر خدا کا محبوب ہو تو میں اس کوسو میں سے سو درجے پسند کروں گا اور مطلقا پر واہ نہ کروں گا کہ میں بڑے خاندان سے ہوں اور علم والے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور وہ ادنیٰ قوم سے ہے میں صرف خدا کی یاد کی خوبی کوسب سے بڑی خوبی جانوں گا۔(خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۱۹۱) احمدی غیر احمدی کانکاح اور کفو کاسوال تیسرا اہم مسئلہ جس پر میں آج کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ احمدیوں اور غیر احمد یوں میں نکاح کا سوال ہے اور اسی ضمن میں کفو کا سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو شادیوں کے متعلق جو مشکلات پیش آتی ہیں۔مجھے پہلے بھی ان کا علم تھا۔لیکن اس 9 ماہ کے عرصہ میں تو بہت ہی مشکلات اور رکاوٹیں معلوم ہوئی ہیں اور لوگوں کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ہماری جماعت کو سخت تکلیف ہے۔