فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 194

۱۹۴ نکاح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق یہ تجویز کی تھی کہ احمدی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام ایک رجسٹر میں لکھے جائیں اور آپ نے یہ رجسٹر کسی شخص کی تحریک پر کھلوایا تھا تھا۔اس نے عرض کیا تھا کہ حضور شادیوں میں سخت دقت ہوتی ہے۔آپ کہتے ہیں کہ غیروں سے تعلق نہ پیدا کرو۔اپنی جماعت متفرق ہے اب کریں تو کیا کریں؟ ایک ایسار جسٹر ہوجس میں سب ناکتخدا لڑکوں اور لڑکیوں کے نام ہوں تا رشتوں میں آسانی ہو۔حضور سے جب کوئی درخواست کرے تو اس رجسٹر سے معلوم کر کے اس کا رشتہ کروا دیا کریں کیونکہ کوئی ایسا احمدی نہیں ہے جو آپ کی بات نہ مانتا ہو۔بعض لوگ اپنی کوئی غرض درمیان میں رکھ کر کوئی بات پیش کیا کرتے ہیں اور ایسے لوگ آخر میں ضرور ابتلاء میں پڑتے ہیں۔اس شخص کی بھی نیت معلوم ہوتا ہے درست نہ تھی۔انہیں دنوں میں ایک دوست کو جونہایت مخلص اور نیک تھے۔شادی کی ضرورت ہوئی اسی شخص کی جس نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ رجسٹر بنایا جائے۔ایک لڑکی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دوست کو اس شخص کا نام بتایا کہ اس کے ہاں تحریک کرو۔لیکن اس نے نہایت غیر معقول عذر کر کے رشتہ سے انکار کر دیا۔اور لڑ کی کہیں غیر احمد یوں میں بیاہ دی۔جب حضرت صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ آج سے میں شادیوں کے معاملہ میں دخل نہیں دوں گا۔اور اسی طرح یہ تجویز رہ گئی۔لیکن اگر اس وقت یہ بات چل جاتی تو آج احمدیوں کو وہ تکلیف نہ ہوتی جواب ہورہی ہے۔انوار العلوم جلد ۲- برکات خلافت صفحہ ۲۰۹) اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔(حاشیه) - اپنی جماعت کے لئے ضروری اشتھار میں نے انتظام کیا ہے کہ آئندہ خاص میرے ہاتھ میں مستور اور مخفی طور پر ایک کتاب رہے جس میں اس جماعت کی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام لکھے رہیں۔اگر کسی لڑکی کے والدین اپنے کنبہ میں ایسی شرائط کا لڑکا نہ پاویں جو اپنی جماعت کے لوگوں میں سے ہو اور نیک چلن اور نیز ان کے اطمینان کے موافق ہو۔ایسا ہی اگر ایسی لڑکی نہ پاویں تو اس صورت میں اُن پر لازم ہوگا کہ وہ (بقیہ اگلے صفحہ پر )