فرموداتِ مصلح موعود — Page 192
۱۹۲ نکاح اور یہی فتویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مجھے زبانی پہنچا ہے۔(فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۲۔دارالقضاء، ربوہ ) طريق نکاح نکاح کا طریق سادہ ہے نہ باجے نہ کچھ۔ایک نکاح خواں اور دو گواہ۔اگر نکاح خواں نہ ہوتو انسان گواہوں کی موجودگی میں اپنا نکاح خود پڑھ سکتا ہے یا لڑکی کا ولی پڑھ سکتا ہے۔نکاح کے بعد خرما یا کوئی اور چیز بانٹنا فرض نہیں۔محض ایک پسندیدہ امر ہے اور سنت ثابتہ ہے۔( خطبات محمود جلد ۳ - صفحه ۹۴) حاضرین میں کچھ چھوہارے تقسیم کئے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی یہ بھی نہیں لاسکتا تو نہ لائے۔اگر اپنے پاس کچھ نہ ہونے کی صورت میں چونی یا دونی کے بھی چھوہارے لاتا ہے تو وہ مسرف ہے۔الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۳ء صفحہ ۷۔خطبات محمود ۱۶۰/۳) كفو کفو جو شریعت نے مقرر کی ہے وہ دینداری ، تقویٰ اور آپس کے دنیاوی حالات کی مطابقت ہے۔جن کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے اور یہ تو بھائیوں بھائیوں میں بھی ہوتا ہے مثلاً ایک بھائی مالدار ہے اور دوسرا غریب۔ایسی حالت میں مالدار خیال کرے گا کہ میری لڑکی جو آرام و آسائش میں پلی ہے وہاں جائے گی تو تکلیف اٹھائے گی اور آپس میں شکر رنجی رہے گی یا لڑکے لڑکی کی طبائع میں فرق ہوتا ہے۔دینداری کے لحاظ سے، یا علم کے لحاظ سے اس کا بھی خیال نہ رکھا جائے تو نتیجہ خراب نکلتا ہے۔اس قسم کی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے باقی قومیت وغیرہ کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا کیونکہ سب وحدت پر قائم ہوتے ہیں اور ایک خدا کو مانتے پر