فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 148

۱۴۸ زكوة کرانے میں۔۶۔غار مین یعنی وہ لوگ جو اپنے کسی قصور کے بغیر مالی ابتلاء میں پھنس گئے ہوں۔۷۔فی سبیل اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے یا اس کی رضاء کے کاموں میں۔۸۔ابن السبیل یعنی مسافر۔زکوۃ کا پہلا مصرف فقراء ہیں یعنی وہ لوگ جو کلی طور پر یا جزوی طور پر اپنا گزارہ چلانے کے لیے دوسروں کی مدد کے محتاج ہیں۔مثلاً پانچ ہیں ، معذور ہیں، یتامی و بیوگان ہیں۔ایسے تمام لوگوں کی ذمہ واری قوم پر ہوتی ہے اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو قوم ذلیل ہو جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم دے دیا جس سے دائمی طور پر قابل امداد لوگوں کی امداد ہوتی رہے اور قوم اور ملک میں ضعف پیدا نہ ہو۔قرآنی آیات میں فقراء کا لفظ اللہ تعالیٰ نے پہلے رکھا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر حالت میں اس کو تمام دوسرے اخراجات پر ترجیح دی جائے گی۔بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ عام حالات میں اس کو ترجیح دی جائے گی۔ورنہ ایسے حالات بھی آسکتے ہیں جب کہ حکومت کو خود اپنی ذات میں خطرہ ہو۔ایسے وقت میں افراد خواہ کتنے ہی غریب ہوں انہیں ملت کے لیے قربانی کی دعوت دی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے غریبوں اور امیروں سب کو بلاتے تھے اور انہیں دیا کچھ نہیں جاتا تھا۔پس معلوم ہوا کہ اگر قوم و ملک کی آزادی خطرے میں ہو تو اس وقت غرباء کو بھی قربانی کے لیے بلایا جا سکتا ہے پس یہ ترتیب جو قرآنی آیت میں فقراء کو نمبر اول پر رکھ کر قائم کی گئی ہے فرض نہیں مرجح ہے۔آیت میں فقراء کے بعد مساکین کا لفظ ہے۔لغت میں مسکین کے معنی بھی درحقیقت فقیر ہی کے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ مسکین ساکن فقیر کو کہتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ساکن فقیر کے یہ معنے گئے ہیں کہ وہ جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے اور سوال کے ذریعہ کسی کو اپنی غربت کا پتہ نہ لگنے دے۔یعنی صرف اس کے حالات سے علم ہو کہ قابل امداد ہے۔باوجود اس کے فقیر اور مسکین کے الفاظ ایک ہی قسم کی غربت پر دلالت کرتے ہیں۔انہیں الگ الگ بیان کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض مقرر کیا گیا ہے وہ صرف نادار لوگوں کا ہی فکر نہ