فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 149

۱۴۹ زكوة کرے بلکہ ایسے لوگوں کی بھی جستجو کرے جو نادار ہیں لیکن اپنی ناداری لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے اور تلاش کر کے ان کی مدد کرے۔تیسری مدخرچ کی والعاملین علیها کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے بعض جو لوگ زکوۃ کا انتظام کرنے پر مقرر ہوں ان کی تنخواہیں وغیرہ بھی اس سے ادا کی جائیں۔در حقیقت و الـعـامـلـيـن عليها کے الفاظ میں وسعت ہے۔ملکی فوج بھی عاملین کی ذیل میں آجاتی ہے کیونکہ اگر فوج نہ ہوگی تو ملک کا امن برقرار نہ رہ سکے گا۔نہ تجارت ہو سکے گی نہ زمینداری اور اگر تجارت و زمینداری نہ ہوگی تو زکوة کہاں سے آئے گی۔پس زکوۃ کے جمع ہونے میں فوج کا بھی بڑا دخل ہے۔بہر حال زکوۃ کے نظم ونسق کے کارکن اول درجہ پر عاملین کی ذیل میں آتے ہیں۔( تفسیر کبیر۔جلد دہم، سورۃ الکفرون صفحه ۴۲۶،۴۲۵) مؤلفة القلوب چوتھی مد مؤلفۃ القلوب بیان کی گئی ہے۔۔۔مؤلفة القلوب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل اسلام یا اسلامی حکومت کی طرف مائل ہو چکے ہوں۔لیکن کفار کے ملک میں ہونے کی وجہ سے اپنے اسلام یا اپنی ہمدردی کو پوری طرح ظاہر نہ کر سکتے ہوں اُن کو اسلامی ملک میں لانے یا ان کی دلی حالت کو قائم رکھنے میں مدد دینے کے لئے بھی زکوۃ کا روپیہ خرچ کیا جا سکتا ہے یا ایسے لوگ جن کے دل اسلام کی صداقت کے قائل ہوچکے ہیں لیکن اگر وہ اسلام کو ظاہر کردیں تو غیر ممالک میں ان کی ملازمتیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں اور گزارے کی صورتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ان کی بھی مدد کی جاسکتی ہے۔مؤلفة القلوب سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ کسی کو روپیہ دے کر اسلام کی طرف مائل کیا جائے کیونکہ اسلام روپیہ دے کر لوگوں کو مسلمان بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔اس کی ذاتی خوبیاں ہی اس کے پھیلانے کے لئے کافی ہیں۔پانچویں مدفی الرقاب بیان کی گئی ہے یعنی غلاموں کے آزاد کرانے میں بھی زکوۃ کا روپیہ خرچ