فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 147

۱۴۷ زكوة پیداوار پرٹیکس دیا جاتا ہے اور تجارتی مال میں رأس المال پر بھی ٹیکس ہوتا ہے۔چونکہ زمین کے رأس المال پر ٹیکس نہیں لگا اس لیے پیداوار پر دسواں حصہ لیا گیا اور تجارتی مال میں چونکہ رأس المال پر بھی ٹیکس لگ گیا اس لیے صرف اڑھائی فیصدی نسبت رکھی گئی۔زیور کی زکوة زکوۃ کے متعلق ایک دوست کو حضور نے لکھوایا (دیباچه تفسیر القران - صفحه ۲۹۶،۲۹۵) زکوۃ صرف اس مال پر ہوتی ہے جس پر ایک سال گزر جاوے۔آپ کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سال نہیں گزرا اور نہ اس وقت تک گزرے گا جب تک کہ آپ اس روپے کو دوسروں کے حوالے کر دیں گے۔اس لیے اس پر زکوۃ نہیں۔زیور کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر وہ پہنا جاتا ہے تو جائز ہے کہ اس کی زکوۃ نہ دی جاوے لیکن اگر وہ عام طور پر رکھا رہتا ہے صرف کسی خاص تقریب پر پہنا جاتا ہے تو اس پر زکوۃ ہے۔جس کے پاس مال نہ ہو وہ اس زیور میں سے زکوۃ ادا کرے۔یا کبھی کبھی غریبوں کو استعمال کے لیے دے دیا کرے یہ بھی اس کی زکوۃ ہوتی ہے۔الفضل ۲۹ مئی ۱۹۲۲ء۔جلد ۹ نمبر ۹۳) مصارف زکوة إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِين (التوبة) یعنی زکوۃ کے خرچ کرنے میں مندرجہ ذیل آٹھ مدات ہیں۔۱۔فقراء ۲۔مساکین ،۳۔زکوۃ کے کام پر مامور عملہ۔۴۔مولفتہ القلوب یعنی جن لوگوں کی تالیف قلب مد نظر ہو۔۵۔فی الرقاب یعنی جو غلام ہوں یا مصائب میں پھنسے ہوئے ہوں ان کی گلوخلاصی