فرموداتِ مصلح موعود — Page 83
۸۳ اسلامی عبادات اور مسجد میں حضور نے فرمایا : یہ فتویٰ درست ہے۔معمولی اجتماعوں میں نماز جمع نہ ہونی چاہئے۔نماز جمع صرف قومی اجتماعات میں ہم کرتے ہیں اور اس کے بغیر جب انتظام میں تکلیف مالا يطاق ہو یا سفر یا بارش ہو یا سخت کیچڑ ہو ، رات کو چلنا خطرناک ہو۔الفضل ۱۸ ستمبر ۱۹۴۴ء۔جلد نمبر ۳۱ نمبر ۲۲۰) سوال : اگر کوئی شخص مصروفیت کی وجہ سے ظہر وعصرا کٹھی اور مغرب وعشاءاکٹھی پڑھ لے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ جواب :۔مجبوری اور غلطی سے پڑھی تو معاف ہے، ارادتا جمع نہیں کرنی چاہئے۔فائل مسائل دینی 17۔10۔1960/A-32) سوال: نمازیں جمع کرنے کی صورت میں سنتیں پڑھنی چاہئیں یا نہیں؟ جواب :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے تو اس بات کے متعلق علماء میں اختلاف تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل سے ہم نے جو کچھ تو اتر سے دیکھا ہے اور پوچھنے والوں کے جواب میں آپ نے ہمیشہ جو کچھ فرمایا ہے وہ یہی ہے کہ نمازیں جمع کرنے کی صورت میں فرضوں سے پہلی سنتیں بھی اور بعد کی سنتیں بھی معاف ہو جاتی ہیں۔سوال :۔اگر نماز جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع کی جائے تو کیا پھر بھی سنتیں معاف ہیں؟ جواب :۔نماز جمعہ سے قبل جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں وہ دراصل جمعہ کے نفل ہیں اور جمعہ کے ساتھ مخصوص ہیں اس لئے نماز جمعہ سے قبل سنتیں بہر حال پڑھنی چاہئیں۔(الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۴۶ء نمبر ۲۴۰) جمع بين الصلوتين اگر مقتدی کو معلوم نہ ہو کہ کون سی نماز ہے اس صورت میں مقتدی کی وہی نماز ہوگی جو امام کی تھی