فرموداتِ مصلح موعود — Page 82
۸۲ اسلامی عبادات اور مسجد میں اسلام نے یہ کیا ہے کہ نماز وغیرہ کے مواقع پر سر پر ٹوپی یا پگڑی رکھی جائے، سرنگا نہ ہو۔عورتوں کے متعلق علماء میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر ان کے سر کے اگلے بال ننگے ہوں تو آیا ان کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں۔اکثر علماء کا یہی خیال ہے کہ اگر اگلے بال ننگے ہوں تو نماز نہیں ہوتی۔پرانے فقہاء کا خیال ہے کہ ننگے سرنماز نہیں ہوتی۔لیکن ہمارے ہاں مسائل کی بنیاد چونکہ احادیث پر ہے اور احادیث میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض صحابہ نے ننگے سر نماز پڑھی اس لئے ہم اس تشدد کے قائل نہیں کہ ننگے سر نماز ہوتی ہی نہیں۔ہمارے نزدیک اگر کسی کے پاس ٹوپی یا پگڑی نہ ہواسی طرح سرڈھانکنے کے لئے کوئی رومال وغیرہ بھی اس کے پاس نہ ہو تو ننگے سرنماز پڑھی جاسکتی ہے۔(الفضل ۹ رفروری ۱۹۵۵ء) سوال :۔کیا ننگے سرنماز جائز ہے؟ جواب :۔ایسی صورت میں ننگے سر نماز پڑھنا غلطی ہے جبکہ سرڈھانپنے کے لئے کوئی کپڑا وغیرہ موجود ہو۔منع نہیں۔کئی صحابہ پڑھتے تھے۔مگر میرا خیال ہے کہ ان کے پاس سرڈھانکنے کے لئے کپڑا نہیں ہوتا تھا۔حدیثوں میں آتا ہے کہ صحابہ کے پاس بسا اوقات تہہ بند کے لئے بھی پورا کپڑا نہیں ہوتا تھا۔الفضل ۱۷ اکتوبر ۱۹۴۶ء۔نمبر ۲۴۳) سوال :۔بنگر پہن کر نماز پڑھنے کے بارہ میں کیا حکم ہے؟ جواب :۔اگر کسی کے پاس نگر ہے اور دوسرا کپر انہیں تو نکر پہن کر جائز ہے بلکہ اگر اس کے پاس کپڑا نہیں تو نگر چھوڑ لنگوٹی میں بھی نماز جائز ہے لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا جبکہ اور کپڑا موجود ہو نا جائز ہے۔( الفضل ۱۷ اکتوبر ۱۹۴۶ء) نمازیں جمع کرنا بادل اور کیچڑ کی وجہ سے مغرب وعشاء جمع ہوئیں بعض احباب نے اختلاف کیا کہ معمولی باتوں پر نماز جمع کرالی جاتی ہیں؟