فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 84

۸۴ اسلامی عبادات اور مسجد میں خواہ اس نے اس کے خلاف ہی نیت باندھی ہو۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ ہے لیکن اگر مقتدی کو معلوم ہو جائے کہ یہ بعد کی نماز ہے تو پہلے پہلی نماز الگ پڑھے پھر جماعت میں شامل ہو۔یہ فتوی خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے میں نے سُنا ہے۔( الفضل ۷ ستمبر ۱۹۴۰ء) سوال: نمازیں جمع ہور رہی ہوں اور ایک شخص بعد میں آئے جسے معلوم نہ ہو کہ کون سی نماز پڑھی جارہی ہے ظہر یا عصر۔وہ ظہر سمجھ کر شامل ہو جاتا ہے مگر وہ عصر کی نماز ہو تو اس کی کون سی نماز ہوگی؟ جواب :۔ایسی صورت میں جونیت امام کی ہوگی وہی اس کی سمجھی جائے گی۔لیکن اگر اسے معلوم ہو جائے کہ عصر کی نماز ہورہی ہے تو پہلے اسے ظہر کے فرض پڑھنے چاہئیں اور پھر عصر کی نماز میں شریک ہونا چاہئے۔(الفضل۔ارجولائی ۱۹۳۴ء) غیر معمولی علاقوں میں نماز کے اوقات غیر معمولی علاقوں میں نماز کی فرضیت اور اس کے لئے وقت مقرر کرنے کا اصول الف: نماز کی فرضیت دنیا کے ہر علاقہ میں قائم ہے اور کسی علاقہ کے غیر معمولی حالات کی وجہ سے یہ فرضیت ساقط نہیں ہوسکتی۔ب:۔غیر معمولی علاقوں میں نماز کے اوقات اندازہ سے ہوں گے اور اوقات کی پابندی لفظاً نہیں ہوگی۔نماز کے اوقات کے لحاظ سے غیر معمولی علاقے غیر معمولی علاقوں سے مراد وہ علاقے ہیں الف:۔جہاں دن رات چوبیس گھنٹوں سے زیادہ کے ہیں۔ب۔جہاں دن رات اگر چہ چوبیس گھنٹوں کے ہیں لیکن ان میں باہمی فرق اتنازیادہ ہے کہ وہاں قرآن وسنت کی رو سے نمازوں کے پانچ معروف اوقات کی تفریق ممکن نہیں یعنی وہ علاقے جہاں شفق