فرموداتِ مصلح موعود — Page 81
ΔΙ قرآن کی کسی آیت کا ٹکڑا آ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔سوال :۔کیا حالت سجدہ اردو میں دعا مانگنا جائز ہے؟ اسلامی عبادات اور مسجد میں جواب :۔جائز ہے۔(الفضل یکم دسمبر ۱۹۴۴ء۔نمبر ۲۸) ننگے سر نماز سوال :۔کیا بلا ضرورت کوئی شخص ننگے سر نماز ادا کرسکتا ہے؟ جواب : نماز میں یوں تو اچھا لباس پہنے کا حکم ہے۔جیسا کہ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ - باقی نوافل اور گھر کی نماز میں بدوں ضرورت کے محض جواز کے طور پر ایک چادر میں بھی پڑھنا ثابت ہے۔بحسب الحکم مولوی محمد سرور شاہ صاحب نے جواب لکھا۔(الفضل ۵ اگست ۱۹۱۵ء) سوال :۔مصری لوگ اکثر ننگے سرنماز پڑھتے ہیں مگر ہم سرڈھانپ کر نماز پڑھتے ہیں کیا اس کے متعلق کوئی حکم ہے؟ جواب :۔ہمارے ملک میں چونکہ احترام کا نشان سرڈھانپنا ہے اس لئے ہمارے ملک میں یہی مناسب ہے کہ سر ڈھانپا جائے مگر کئی صحابہ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ ننگے سر پڑھتے تھے۔مگر ہم لوگ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ان کے پاس کپڑے پورے ہوتے ہی نہ تھے کیا کرتے۔مگر حافظ روشن علی صاحب کو اس روایت پر اتنا غلو تھا کہ وہ سر پر ٹوپی ہوتی بھی تو اس کو اتار لیتے تھے۔میں ان سے ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ حافظ صاحب جس حدیث پر آپ کو اتنا غلو ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کو کپڑا نصیب نہیں ہوتا تھا۔آپ کو نصیب ہے پس اتنا غلو ثابت ہو گیا کہ نگا سر رہنے سے نماز ٹوٹتی نہیں ہاں عورتوں کے متعلق فقہاء کا قطعی فیصلہ ہے کہ ان کو سر ڈھانک کر نماز پڑھنی چاہئے۔(فائل مسائل دینی 4/13۔5۔57 B۔DP-32)