فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 80

۸۰ اسلامی عبادات اور مسجد میں جواب :۔میرا تو یہی عقیدہ رہا ہے کہ سجدہ میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا جائز ہے لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ایسا حوالہ ملا جس میں آپ نے سجدہ کی حالت میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا نا جائز قرار دیا ہے۔اسی طرح مسند احمد بن مقبل میں بھی اسی مضمون کی ایک حدیث مل گئی لیکن اگر میرے عقیدے کے خلاف یہ امور نہ ملتے تب بھی یہ دلیل میں معقول قرار نہ دیتا کہ سجدہ جب انتہائی تذلیل کا مقام ہے تو قرآنی دعاؤں کا سجدہ کی حالت میں پڑھنا جائز ہونا چاہئے۔امام مالک کا عقیدہ تھا کہ سمندر کی ہر چیز حلال ہے ایک دفعہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا سمندر میں سور بھی ہوتا ہے کیا اس کا کھانا بھی جائز ہے۔آپ نے فرمایا سمندر کی ہر چیز کھانی جائز ہے مگر سور حرام ہے اس نے بار بار یہی سوال کیا مگر آپ نے فرمایا میں اس سوال کا یہی جواب دے سکتا ہوں کہ سمندر کی ہر چیز حلال ہے مگر سور حرام ہے۔یہی جواب میں دیتا ہوں کہ سجدہ بے شک تذلل کا مقام ہے مگر قرآن کریم کی چیزیں، اس کی دعا ئیں سجدہ کی حالت میں نہیں پڑھنی چاہئیں۔دعا انسان کو نیچے کی طرف لے جاتی ہے اور قرآن انسان کو اوپر کی طرف لے جاتا ہے۔اس لئے قرآنی دعاؤں کا سجدہ کی حالت میں مانگنا نا جائز ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بات مل گئی تو پھر اس کے خلاف طریق اختیار کرنا درست نہیں گو وہ ہماری عقل میں نہ آئے۔اس پر قیاس کر کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی دعائیں بھی سجدہ کی حالت میں پڑھنی ناجائز ہیں۔سوائے اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے اس کی اجازت ثابت ہو جائے۔(الفضل ۱۶ ر اپریل ۱۹۴۴ء - صفحه ۸۸) سوال:۔کیا یہ جائز ہے کہ سجدہ میں دعا کرتے وقت کچھ قرآنی الفاظ اور کچھ اپنے الفاظ ہوں؟ جواب : سجدہ میں قرآنی دعا ئیں تو جائز نہیں ہیں لیکن اگر انسان کے اپنے الفاظ ہوں اور ان میں