فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 400

۴۰۰ متفرق مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ مسلمان اس مسئلہ کو خاص زور سے بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ایسے بے نفس تھے کہ آپ نے اپنی اولاد کے لئے صدقہ کو حرام کر دیا۔اور انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ آپ ایسے بے نفس تھے تو مسلمان ایسے نفس کے بندے کیوں ہو گئے ہیں کہ آپ کے احسان کا بدلہ اتارنے کی ادنی کوشش بھی نہیں کرتے محسن کسی بدلہ کا خیال نہیں کرتا۔مگر کیا جس پر احسان کیا جائے اس کی شرافت نفس اس کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ محسن کے احسان کا شکر یہ عمل سے ادا کرے۔میرے نزدیک اس حکم سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ ادب سکھایا تھا کہ اگر حضرت رسالت مآب کی اولاد میں سے کوئی غریب ہو تو وہ اس کے ساتھ حضور کے احسان کی یاد میں سلوک کریں۔کیونکہ آپ کی اولاد کے ساتھ صدقہ کا معاملہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔کیا اپنے بھائیوں کولوگ صدقہ دیا کرتے ہیں پھر کیا اس روحانی باپ کی اولاد سے اُن کا سلوک بھائیوں جیسا نہیں ہونا چاہئے؟ افسوس کہ اس حکمت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان دو حکموں میں سے ایک کو توڑنے لگ گئے ہیں۔یا تو وہ سادات پر صدقہ اور زکوۃ خرچ کرنے لگ گئے ہیں یا اُن کی خدمت سے بالکل محروم ہو گئے ہیں۔( تفسیر کبیر جلد اوّل۔سورہ بقرہ۔صفحہ ۱۳۱) F قتل حسین میں یزید کی فوج بھی ذمه وار هے سوال :۔یزید کی فوج کے ہاتھوں جو واقعہ شہادت امام حسینؓ کا ہوا تھا۔کیا وہ فوج بھی اس معاملہ میں گنہگار ہے یا نہیں یا صرف یزید ہی اس بات کا ذمہ وار ہے اور وہی قابل سزا ہے۔اگر فوج کو بھی سزا ملنی چاہئے تو کیوں فوج نے اولی الامر منکم کے تحت ایسا کیا تھا؟ جواب :۔اس بات کے متعلق یزید بھی ذمہ وار تھا اور اس کے ماتحت بھی کیونکہ وہ سب ظلم کر رہے تھے۔ظلم کرنے میں اولی الامر کی اطاعت کرنی ضروری نہیں۔انسان اس شخص کی اطاعت چھوڑ دے جو ظلم کرواتا ہے۔الفضل یکم جولائی ۱۹۱۶ء صفحہ ۷۔جلد ۳ نمبر ۱۲۲)