فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 399

۳۹۹ متفرق اپنے گھروں میں بھی دیکھا ہے کہ جب چند سال زکوۃ ادا کرتے ہیں تو آخر کہہ دیتے ہیں کہ اس زیور کو فلاں جگہ پر لگا دیجئے۔الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۶۰ء صفحه ۶) پیشه ور فقیروں کوخیرات دینا سوال:۔پیشہ ور فقیروں کو کچھ دینا چاہئے یا نہیں؟ جواب :۔فرمایا۔پیشہ ور فقیر کے لئے پہلے سوچنا پڑے گا کہ وہ پیشہ ور کیوں بنا۔کیونکہ خود پیشہ اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں۔اگر تو وہ شخص اس لئے پیشہ ور بنا ہے کہ اس کے ہمسائے یا گاؤں کے مسلمان یا ہندو اس قسم کے ظالم یا سنگدل ہیں کہ وہ اس پر رحم نہیں کرتے اور باوجود یکہ وہ مددکا مستحق ہے اس کی مدد نہیں کرتے۔تو ایسے شخص کا پیشہ ور ہونا اس کا اپنا قصور نہ ہوگا اس کو تو تم لوگوں نے اس کی مدد نہ کرنے کی وجہ سے اس پیشہ کے لئے مجبور کیا ہوگا۔ایسے شخص کو تو دینے یا نہ دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا اسے تو اتنا دینا چاہئے کہ وہ اس پیشہ کو ہی چھوڑ دے بلکہ جب ایسا شخص مانگنے کے لئے آئے تو اسے کہنا چاہئے کہ ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم نے یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ تم مدد کے مستحق تھے تمہاری مدد نہ کی۔اب تم گھر بیٹھو ہم تمہیں گھر پر ہی سب کچھ پہنچایا کریں گے۔( الفضل ۶ / دسمبر ۱۹۶۰ء صفحه ۳ ) سادات کے لئے صدقہ کوناجائز کرنے میں حکمت میرے نزیک رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کی اولاد کے لئے صدقہ جائز نہیں تو اس میں یہی حکمت تھی کہ کہ امت اسلامیہ کو بتایا جائے کہ اس محسن عظیم کی اولاد سے جو سلوک کیا جائے وہ صدقہ ہو ہی نہیں سکتا۔وہ تو اس محسن کے احسان کا بدلہ اتارنے کی ایک ادنیٰ کوشش ہوگی۔