فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 401

۴۰۱ متفرق سوال :۔ایک شخص نے حضرت صاحب کی خدمت میں سوال پیش کیا کہ کوئی طریقہ ایسا ہو کہ بندہ کو ہمیشہ کرتا رہے اور ہمیشہ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیدار سے مشرف ہوتار ہے؟ جواب :۔دیدار حقیقی کے تو یہ معنی ہیں کہ ان کی روح سے ملاقات ہو۔یہ خیال کرنا کہ نبی روزانہ لوگوں سے ملنے آجایا کریں یا ان کو ان کے پاس پہنچایا جایا کرے۔یہ خیال عقل و دانش سے بعید ہے۔یہ تواللہ تعالیٰ کا ایک فعل ہوتا ہے اس کے ماتحت وہ کبھی اپنے بندوں کو زیارت کرا دیتا ہے۔یہ اصل رویت ہے جسے یہ رویت نصیب ہو جائے۔صوفیاء کے نزدیک وہ صحابہ میں شامل ہو جاتا ہے اور ایک رویت ایسی ہوتی ہے کہ جس بات کا انسان خیال کرتا ہے اس کا ایک واہمہ سامنے آجاتا ہے۔ایسی رویت تو بعض کو روزانہ بھی ہوتی رہتی ہے مگر اس کا کچھ فائدہ نہیں۔انسان کو چاہئے کہ بجائے اس رویت کے روحانی رویت کا طالب ہو۔ان کے اسوہ حسنہ کی اتباع کرے تا کہ فائدہ بھی حاصل ہو۔الفضل ۲۳ دسمبر ۱۹۲۰ء۔جلد ۸ - نمبر ۴۷ صفحه ۷ )۔مسلمانوں میں جو امیر شریعت کی تحریک ہے اس کے متعلق فرمایا کہ اسلام میں امیر شریعت کا کوئی عہدہ نہیں ہوتا تھا اور نہ ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کا مامور تو یہ حیثیت رکھتا ہے مگر اور کسی کو یہ درجہ نہیں۔حضرت عمر جیسا انسان جب کہتا ہے کہ السماء بالماء حدیث میں ہے کہ جب عورت سے صحبت میں انزال ہو تو غسل واجب ہوتا ہے وگرنہ نہیں۔تو اس وقت بحث چھڑ گئی اور ایک صحابی نے کہا کہ اس مسئلہ کو تو ہمارے بچے بھی جانتے ہیں کہ جب مرد مجامعت کرے خواہ انزال ہو یا نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل واجب کیا ہے تو حضرت عمر کو مانا پڑا۔پس حضرت عمر بھی امیر شریعت نہ رہے۔الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۲۲ء - جلد ۹ نمبر ۵۷ صفحه ۸) بچوں کے نام سوال :۔ایک دوست نے عرض کیا ہے ہم حضرت کرشن اور حضرت رام چندر جی کو نبی مانتے ہیں۔