فرموداتِ مصلح موعود — Page 386
ناچ گانا قوالی سوال :۔قوالی کے متعلق کیا حکم ہے کیونکہ قوالی سننے سے بہت اثر اور سرور حاصل ہوتا ہے؟ جواب : فرمایا۔آپ نے کیا کبھی بھنگ پی ہے؟ بھنگ پینے والوں کو تو اتنا اثر اور اتنا لطف حاصل ہوتا ہے کہ اس کا عشر عشیر بھی قوالی سننے والوں کو حاصل نہیں ہوسکتا۔بھنگ پینے والوں کو تو ا تناسرور حاصل ہوتا ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ آسمان کے طبقات اس پر کھل گئے اور کبھی وہ فلک کی سیر کرتا ہے اور کبھی اور دوسرے بلند مقامات پر اڑتا پھرتا ہے۔پس اگر لطف حاصل کرنا ہے تو آپ قوالی سن کر چھوٹی چیز پر قناعت کیوں کرتے ہیں۔کیوں زیادہ سرور د ینے والی چیز اختیار نہیں کرتے۔سوال :۔قوالی سننے سے بعض اوقات بے اختیار رقت طاری ہو جاتی ہے؟ جواب :۔فرمایا۔تھیٹر دیکھنے اور جھوٹے ناولوں کے پڑھنے سے بھی رقت طاری ہو جاتی ہے اور انسان بے اختیار رونے لگتا ہے۔رہا یہ کہ لوگوں کو قوالی میں حال آجاتا ہے اس کے متعلق ابن سیرین نے لکھا ہے کہ ایک شخص کو کسی اونچی دیوار پر بٹھا کر اس کے سامنے تمام قرآن مجید پڑھ جاؤ۔پھر میں دیکھوں گا کہ اسے کس طرح حال آتا ہے۔گانا بجانا الفضل ۶ / جون ۱۹۳۱ء۔جلد ۱۸ نمبر ۱۴ صفحه ۷ ) سوال :۔ریڈیو یاریکارڈ کے ذریعہ غیر عورت کا گانا سننا شریعت اسلام کی رو سے کیسا ہے؟ جواب :۔فرمایا۔میں اس بات کا قائل نہیں کہ کسی عورت کا گانا آمنے سامنے ہوکر سننا یا ذریعہ ریڈیو یا گراموفون سنا ایک ہی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ مرزا افضل بیگ صاحب مرحوم کے گراموفون پر ایک غزل گائی جاتی تھی میرے سامنے سنی اور اس کو منع قرار نہیں دیا البتہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس طرح بُرا اثر پڑ سکتا ہے اور ضیاع وقت ہے اس بات کو روکا جا سکتا