فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 387

۳۸۷ ناچ گانا ہے مگر اس دلیل کی بناء پر اس کی حرمت کا فتویٰ میں دینے کو تیار نہیں ہوں۔الفضل ۱۴ جون ۱۹۴۰ء - جلد ۲۸ نمبر ۱۳۵ صفی ۲) خوش الحانی علیحدہ چیز ہے اور راگ میں الفاظ کو مد نظر نہیں رکھا جا تا بلکہ سر اور تال کو دیکھا جاتا ہے مگر خوش الحانی میں صرف آواز کا خیال ہوتا ہے۔الفاظ کو نہیں بگاڑا جاتا۔اور ڈھولک تو بالکل ہی اور چیز ہے۔اس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا نہیں ہوسکتا۔(چشمہ عرفان - صفحہ ۲۷) سوال : حضرت نظاریه است امید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ریڈیو کے گانے سے متعلق :۔حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم کا فتویٰ پیش کیا گیا۔اس فتویٰ میں ان ہر دو علماء نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ریڈیو کے ذریعہ غیر عورت کا گانا سننا شریعت اسلامی کی رو سے ناجائز ہے؟ جواب: - حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ میں اس بات کا قائل نہیں کہ کسی عورت کا گانا آمنے سامنے ہو کر سننا یا بذریعہ ریڈیو یا گراموفون سننا ایک ہی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ مرزا افضل بیگ صاحب مرحوم کے گراموفون پر ایک غزل گائی جاتی تھی میرے سامنے سنی اور اس کو منع قرار نہیں دیا البتہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس طرح برا اثر پڑسکتا ہے اور ضیاع وقت ہے اس بات کو روکا جاسکتا ہے مگر اس دلیل کی بناء پر اس کی حرمت کا فتویٰ میں دینے کو تیار نہیں ہوں۔☆☆☆ رجسٹر ہدایات اصلاح و ارشاد )