فرموداتِ مصلح موعود — Page 313
۳۱۳ معاملات مکان مرهونه کاکرایه زررهن کے حساب سے مقرر کرنا سوال :۔بعض لوگ کسی کا مکان رھن رکھتے ہیں اور پھر ایک مقررہ رقم بطور کرایہ اسی مالک مکان سے وصول کرتے رہتے ہیں۔کیا یہ جائز ہے؟ جواب :۔فرمایا۔اگر تو یہ شرط ہو کہ کرایہ مقرر اور معین نہ ہو جب رھن لینے والا چاہے کرا یہ بڑھا دے یا مکان خالی کرالے اور جب رھن دینے والا چاہے وہ کرا یہ کم کرنے کا مطالبہ کرے اور کم نہ ہونے کی صورت میں مکان خالی کر دے تو پھر جائز ہے وگرنہ نہیں۔یہ صورت کہ کرایہ معین طور پر دینا پڑتا ہے اور خالی کرنے کرانے کا بھی اختیار نہیں ہوتا۔یہ ناجائز ہے اور مقررہ کرایہ سود ہے۔رھن رکھنے والے کو اختیار ہونا چاہئے کہ جب چاہے چھوڑ دے یا کرایہ کم کرالے اور لینے والا جب چاہے بڑھا دے یا مکان خالی کرالے۔الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷ نمبر ۴۲۶ - صفحه ۹) سوال :۔اگر کوئی شخص کسی سے دو ہزار میں مکان رھن لے اور پچیس روپیہ اس کا کرایہ مقرر کر کے یہ طے کر لے کہ پانچ روپیہ کرایہ میں سے مرمت کے وضع ہوتے رہیں تو کیا یہ جائز ہے؟ جواب : فرمایا۔یہ ناجائز ہے۔مرمت وغیرہ رھن لینے والے کو خود کرانی چاہئے۔اور یہ بھی ناجائز ہے کہ مکان لینے سے پہلے ہی کرایہ مقرر کر کے مالک مکان سے کرایہ نامہ کا اسٹامپ لکھوا لیا جائے۔ہاں اگر کسی دوسرے سے کرایہ نامہ لکھوالیا جائے تو یہ جائز ہے۔مختصر یہ ہے کہ مکان والے کی حیثیت جب تک بالکل ایک اجنبی کی سی نہیں ہوتی یہ جائز نہیں ہے۔الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷ نمبر ۴۲ صفحه۱۰) سوال :۔کیا کوئی احمدی کسی کی زمین یا کوئی دیگر چیز رھن رکھ سکتا ہے یا کہ نہ۔شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ جواب :۔جائز ہے۔