فیضان نبوت — Page 149
۱۴۹ موت کے گھاٹ اتارے گا اور نذیبی جنگوں کو موقوف کر دے گا۔اس حدیث سے بھی صاف ظاہر ہے کہ عیسائیت کے غلیہ کے وقت امت مسلمہ میں ایک مسیح موعود آئے گا۔پس قصر نبوت کی آخری اینٹ کا اگر یہ مطلب ہوتا کہ آئندہ کوئی نبی نہیں آسکتا تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اپنے بعد کسی مامور کے آنے کی خبر ہر گز نہ دیتے۔یھاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ نزول کا یہ مطلب نہیں کہ عینی علیه السلام خود بحیرہ آسمان سے نازل ہوں گے کیونکہ جب ان کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھنا ہی ثابت نہیں، تو ان کا پر جسم عنصری کے ساتھ آسمان سے اترنا کیسے باور کیا جا سکتا ہے؟ در اصل آسمانی کتابوں کا یہ عام محاورہ ہے کہ جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور اس حدیث میں تو آسمان کا لفظ بھی موجود نہیں۔پس یہاں نزول عیسی سے ایسے شخص کا ہی ظہور مراد ہے جو اپنی فطرت۔اخلاق اور روحانیت میں عیسی علیہ السلام کے مشابہ ہوگا اور امت میں سے بہی آئے گا۔جیسا کہ بخاری میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایسا مکم منکر کہ وہ تمہارا امام تم میں سے ہی پیدا ہوگا۔الغرض مذکورہ بالا حدیث میں ایک مثیل مسیح کے آنے کی خیر دی گئی ہے نہ کہ خود مسیح کے آنے کی اور نزول کا لفظ اس کے اکرام