فیضان نبوت — Page 135
۱۳۵ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ الأَرْسْمُهُ (مشكوة ) یعنی میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا اور الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔تو کیا ایسے وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں باقی ہوگی جس کے منقسم ہونے کا آپ کو خدشہ لاحق ہے اور کیا یہ علامت آنحضرت کی محبت کا نتیجہ ہو سکتی ہے ؟ علاوہ ازیں یہ امر بھی غور طلب ہے۔کہ اگر آنیوالے مسیح موعود کی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت منقسم ہو جاتی ہے۔تو پھر آنحضرت کے بعد تم لوگوں کو صحابہ کرام - آئمہ دین اور اولیائے عظام سے محبت کا کیوں دعوی ہے ؟ اگر مسیح موعود کی محبت سے آنحضرت کی محبت میں رخنہ پڑ سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ان بزرگوں کی محبت سے رخنہ نہیں پڑتا ؟ اور اگر رختہ نہ پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بزرگ آنحضرت کے دلی محبت اور آپ کے دین کے مخلص خادم تھے تو یقیں جانتے کہ آنیوالا موجود بھی ایسا ہی ہے۔مثال کے طور پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے چند اشعار ملاحظہ فرماہیے۔آپ ایک تختیہ قصید میں اپنی قلبی کیفیات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور کسی والہانہ انداز میں فرماتے ہیں سے۔۔