فیضان نبوت — Page 134
۱۳ بہر کیف جس طرح آنحضرت کی اتباع سے محبوبیت الہی کا رتبہ پانا آپ کی شان محبوبی کو کم نہیں کرتا بلکہ آپ کی شان اور عظمت کو بڑھانے کا موجب ہے اسی طرح آپ کی اتباع سے نبوت کا مرتبہ پانا آپ کی شان نبوت کو کم نہیں کرتا بلکہ آپ کی شان اور عظمت کو بڑھانے کا موجب ہے۔گویا آپ کی پیروی سے اگر کوئی شخص نبوت کا رتبہ پا کر بادشاہ بنے گا تو آپ اس سے شہنشاہ ثابت ہونگے۔باقی رہا یه ک کسی جدید بی کے آنے سے رسول کریم کی محبت بجائے ایک رسول کے دو رسولوں میں منقسم ہو جائے گی تو یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ جب کوئی ایسا بنی آئے جسے آنحضرت کے دین سے کوئی سروکار نہ ہو۔اور جو اپنے مقاصد کے لحاظ سے بالکل جدا گانہ حیثیت رکھتا ہو۔لیکن ایسا نبی جس کے آنے کی غرض ہی یہ ہو کہ اسلام کا شجرہ طیبہ پھلے پھولے اور آنحضرت کی محبت اور عظمت دلوں میں جاگزیں ہو اس سے تعلق قائم کرنے کے نتیجہ میں آنحضرت کی محبت کیسے منقسم ہو سکتی ہے ؟ ایسے نبی کی اطاعت تو آنحضرت کی محبت بڑھانے کا موجب ہوگی نہ کہ کم کرنے کا۔علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ احادیث میں تو یح موجود کے آنے کا وقت بتا یا گیا ہے اس کے متعلق تو خود آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- ياتي عَلَى النَّاسِ زَمَانُ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ