فیضان نبوت — Page 97
95 صحیح مفہوم جانتے تھے اگر آیت موصوفہ کا یہ مطلب ہوتا کہ آئندہ کوئی مامور نہیں آسکتا تو آپ ہر گز یہ ارشاد نہ فرماتے :- لَن تَهْلِكَ أُمَّةً أَنَا فِي أَوَّلِهَا وَ المَسَيْحُ ابْنُ مريم في أخيها - (جامع الصغير السيوطي جلد مت) یعنی وہ امت ہرگز ہلاک نہیں ہو سکتی جس کے شروع میں میں ہوں اور جس کے آخر میں مسیح موعود ہوگا۔مذکورہ بالا حدیث میں جس آنے والے موعود کی طرف اشارہ کیا گیا ہے صحیح مسلم میں اس کے متعلق أوحى الله إلى عيسى " کے الفاظ بھی آئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ موخود مورد وحی بھی ہوگا اور پھر مسلم کی اسی حدیث میں له اس کو چار دفعہ نبی اللہ بھی کیا گیا ہے۔لے حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- يُحمر نبي الله عیسی۔نبی اللہ عیسے محصور ہو جائیں گے۔فيرغب نبي الله عیسی - نبی اللہ عیسی خدا کی طرف رجوع کو نیگے۔کر ثُمَّ يَهْبِطُ نَى الله عیسی۔پھر نبی اللہ علیے ایک خاص مقام پر اتریں گئے۔پھرنی اللہ رغب نبي الله عیسی بنی اللہ کیسے جناب انہی کی طرف متوجہ ہوں گے۔( مسلم باب ذکر الدجال )