فیضان نبوت — Page 6
- اس بات سے ہی ظاہر ہے کہ حکمائے یونان اپنی عقلی تحقیقات کی بناء پر زمین کو ساکن اور آسمان کو چکی کی طرح متحرک کہتے تھے اور کو اکب کو ڈولوں کی طرح آسمان سے پیوستہ قرار دیتے تھے۔لیکن موجودہ ہیئت دانوں کی عقلی تحقیقات نے ان تمام نظریات کو باطل ٹھہرایا ہے اور اب کائنات عالم کے متعلق بالکل اور یہی قسم کے نظریایت پیش کئے جارہے ہیں۔اور بہت ممکن ہے کہ آگے چل کر ان نظریات کو بھی غلط قرار دے دیا جائے پیس عقلی موشگافیاں انسان کو یقین کامل کے مرتبہ پر نہیں پہنچا سکتیں اس کے لئے وحی الہی کی روشنی درکار ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی عقل نے تمدنی قوانین ے ہیں لیکن ناقص طور پر جن کے ملک نتایج آئے دن اقوام عالم کو بھگتنے پڑتے ہیں۔اور پھر مجبورا ان میں ترمیم و تنسیخ کرنا پڑتی ہے نہیں دنیا کو ایک ایسے مقتق کی ضرورت ہے جو انسان کی تمام ضروریات کا خیال رکھے اور ذاتی اور قومی اور ملکی مفادات سے بالا ہو۔ظاہر ہے کہ ایسا مقنین خالق کائنات ہی ہو سکتا ہے۔مفاد پرست انسان کی مصلحت اندیش عقل نہیں ہو سکتی اور نہ نبی انسانی قوانین کی گرفت کا خطرہ لوگوں کو پوری طرح جرائم سے روک سکتا ہے کیونکہ انسانی زندگی کا بہت تھوڑا حصہ ایسا ہے جو براہ راست قانون کی نگرانی میں ہوتا ہے اور اس کا معتدبہ حصہ ایسا ہے جو