فیضان نبوت

by Other Authors

Page 7 of 196

فیضان نبوت — Page 7

قانون کی نگرانی میں نہیں ہوتا۔ہائی خدائی ضابطہ حیات ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور خلوت و جلوت میں انسان کو جرائم سے روکتا ہے اور اس بارے میں کامیاب ثابت ہوا ہے کیونکہ خدا کے حاضر وناظر ہونے اور اس کے حضور اپنے اعمال کے لئے جوابدہ ہونے کا احساس ہر وقت انسان کے دل و دماغ پر ستولی رہتا ہے اور اسے ہرزہ کاری سے باز رکھتا ہے۔پس یہ سوال نہیں ہو سکتا کہ مذہب کی کیا ضرورت ہے؟ کیونکہ ہر شخص کسی نہ کسی مذہب کیا پابند ہے اور اس کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے۔البتہ یہ سوال ہوتا ہے کہ آیا وہ راستہ بہتر ہے جو خود انسان نے اپنے لئے تجویز کیا یادہ راستہ بہتر ہے جو خدا نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ظاہر ہے کہ ناقص انسان کی ناقص عقل کا تجویز کردہ راستہ اس راستہ کے برابر نہیں ہو سکتا جو خدا کی کامل ہستی نے اپنے کامل علم کی بناء پر خود اپنے بندوں کی فلاح وبہبود کے لئے مقرر فرمایا ہے۔اگر کہا جائے کہ مذہب سے انسان کی مدیریت اور فضل الحق ناکارہ ہو جاتی ہے۔تو اس کا جوا یہ ہے کہ ناکارہ وہ چیز ہوتی ہے جو استعمال میں نہ لائی جائے لیکن قرآن حکیم بار بار اس امر کی تلقین فرماتا ہے کہ عقل سے کام لو۔اپنی حالت پر غور کرو۔کائنات عالم کی تخلیق میں تدبر کرتے رہو۔پس قرآن میر کا حکم مانتے کے نتیجہ میں تو عقل ناکارہ نہیں ہوسکتی۔البتہ