درثمین مع فرہنگ — Page 69
اشاعت دین بزور شمشیر حرام ہے اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتوای فضول ہے دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اُس خبیث کو کیوں بھولتے ہو تم يَضَعُ الحزب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا ہے سید کونین مصطفے عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلے کو وہ یکسر مٹائے گا پیویں گے ایک گھاٹ پر شیر اور گوسپنڈ کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف وبے گوند یعنی وہ وقت امن کا ہوگا نہ جنگ کا بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہنر یمیت اٹھائے گا اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے ے یہاں جہاد سے مراد اسلام کو بزور شمشیر پھیلانا ہے جو کہ غیر اسلامی نظریہ ہے 69