درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 70

ورد پر القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں کر دے گا ختم آکے وہ دیں کی لڑائیاں ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں اب تم میں خود وہ قوت طاقت نہیں رہی وہ سلطنت وُہ تُخب وہ شوکت نہیں رہی وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی وہ عزم مقبلاتہ وہ ہمت نہیں رہی وہ علم وہ صلاح وہ عفت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی وه کند وہ گماز وہ رقت نہیں رہی خلق خدا یہ شفقت و رحمت نہیں رہی دل میں تمھارے یار کی الفت نہیں رہی حالت تمھاری جاذب نصرت نہیں رہی محقق آگیا ہے سر میں وہ فطنت نہیں رہی گنل آگیا ہے دل میں جلادت نہیں رہی وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی دنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں یہ سبقت نہیں رہی وہ انس و شوق و کنجد وہ طاعت نہیں رہی خدمت کی کچھ بھی حذور نہایت نہیں رہی ہر وقت جھوٹ سچ کی تو عادت نہیں رہی اور خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی سو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی خوان تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی دیں بھی ہے ایک قہ۔حقیقت نہیں رہی مولی سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی دل مرگئے ہیں نیکی کی قدرت نہیں رہی سب پر یہ اک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے مودت نہیں رہی 70