درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 34

دکھاؤ ذرا آج اُس کا اثر اگر صدق ہے جلد ڈوڈو ادھر گرو نے تو کر کے دکھایا تمھیں وہ رستہ چلو جو بتایا تمھیں کہاں ہیں جو نانگ کے ہیں خاک پا جو کرتے ہیں اُس کے لئے جہاں فدا کہاں ہیں جو اس کے لئے مرتے ہیں جو ہے واک آئس کا وہی کرتے ہیں کہاں ہیں جو ہوتے ہیں اُس پر نثار جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر کے پیار کہاں ہیں جو رکھتے ہیں صدق وثبات گرو سے ملے جیسے شیر و نبات کہاں ہیں کہ جب اُس سے کچھ پاتے ہیں تعشق سے قرباں ہوئے جاتے ہیں کہاں ہیں جو الفت سے سرشار ہیں جو مرنے کو بھی دل سے تیار ہیں کہاں ہیں جو وہ سنگل سے دُور ہیں محبت سے ٹانگ کی معمور ہیں کہاں ہیں جو اس رہ میں پاپوش ہیں گرد کے تعشق میں مدہوش ہیں کہاں ہیں وہ نائٹ کے عاشق کہاں کہ آیا ہے نزدیک اب امتحاں کہاں ہیں جو بھرتے ہیں اُلفت کا دم اطاعت سے سر کو بنا کر قدم گرو جس کے اس رہ پہ ہوویں فدا وہ چیلا نہیں جو نہ دے سر جھکا اگر ہاتھ سے وقت جاوے نکل تو پھر ہاتھ کل کل کے رونا ہے کل نہ مزدی ہے تیر اور تلوار سے بنو مرد مردوں کے کردار سے 34 =