درثمین مع فرہنگ — Page 35
کشور آتی ہے ہر طرف سے صدا که باطل ہے ہر چیز۔حق کے سوا کوئی دن کے مہمان ہیں ہم سبھی خبر کیا کہ پیغام آوے ابھی گرو نے یہ چولہ بنایا شعار دکھایا کہ اس رہ پہ ہوں میں نثار وہ کیونکر ہو اُن ناسعیدوں سے شاد جو رکھتے نہیں اس سے کچھ اعتقاد اگر مان لو گے گرو کا یہ واک تو راضی کرو گے اُسے ہو کے پاک وہ احمق ہیں جو حق کی رہ کھوتے ہیں عبث ننگ و ناموس کو روتے ہیں کالا وہ سوچیں کہ کیا لکھ گیا پیشوا ریت میں کیا کہہ گیا کر ملا کہ اسلام ہم اپنا دیں رکھتے ہیں محمد کی رہ پر یقین رکھتے ہیں اٹھو سونے والو! کہ وقت آگیا تمھارا گرو تم کو سمجھا گیا نہ سمجھے تو آخر کو پچھتاؤ گے گرو کے سرایوں کا پھل پاؤ گے 35 ء یر دست بچن صاله مطبوعه ۱۸۹۵ و سر روحانی خزائن جلد، اصل۱)