درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 17

چھو کے دامن ترا سر دام سے ملتی ہے نجات لاجرم در پہ ترے سر کو جھکایا ہم نے دلبرا ! مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے سجدا دل سے میرے مٹ گئے سب میرں کے نقش جب سے دل میں یہ ترا نقش جایا ہم نے دیکھ کر تجھ کو تعجبت نور کا جلوہ دیکھا نور سے تیرے شیاطیں کو جلایا ہم نے ہم ہونے خیر ہم تجھ سے ہی اسے خیر ارسال تیرے پڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں ہو گا یا ہم نے قوم کے ظلم سے تنگ آ کے مرے پیار سے آج شور محشر ترے کوچہ میں مچایا ہم نے (آئینہ کمالات اسلام ص۲۲ مطبوعه سایه روحانی خزائن جلده ۳۳۳) 17