درثمین مع فرہنگ — Page 18
رحمتہ اللہ علیہ چوله با با ہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاج ہی کابل مل کے گھر میں ہے آج ہیں ہے کہ نوروں سے معمور ہے جو دور اس سے اُس سے خُدا دور ہے ہیں جہر کھی میں مذکور ہے جو انگہ سے اس وقت مشہور ہے اسی پر وہ آیات میں بنیات کہ جن سے ملے جاودانی حیات یہ نانک کو خلعت ملا سرفراز خُدا سے جو تھا درد کا چارہ ساز اسی سے وہ سب راز حق پا گیا اسی سے وہ حق کی طرف آ گیا ہر اک بد گہر سے چھڑایا اُسے راسی نے بلا سے بچایا بچایا اُسے۔ذرا سوچ سکھو! یہ کیا چیز ہے؟ یہ اس مرد کے تن کا تعویذ ہے یہ اس بھگت کا رہ گیا اک نشاں نصیحت کی باتیں ، حقیقت کی جاں گرنتھوں میں ہے ٹنک کا ایک احتمال شک جو پیچھے سے لکھتے لکھاتے رہے کہ انساں کے ہاتھوں سے ہیں دست مال جانے کیا کیا بناتے رہے خُدا گماں ہے کہ نقلوں میں ہو کچھ خطا کہ انساں نہ ہووے خطا سے جُدا مگر یہ تو محفوظ ہے بالیقیں وہی ہے جو تھا اس میں کچھ شک نہیں 18