درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 16

ربط ہے جان متین سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لا جرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے مورد قہر ہوئے آنکھ میں اغیار کی ہم جب سے عشق اُس کا تیردل میں بٹھایا ہم نے زعم میں اُن کے مسیحائی کا دعوی میرا افترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے اہے کارفر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں! نام کیا کیا غیم ملت میں رکھا یا ہم نے گالیاں سُن کے دُعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غلیظ گھٹایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے صف دشمن کو کیا ہم نے بیت پامال سیف کا کام حکم سے ہی دکھا یا ہم نے تور دکھلا کے ترا سب کو کیا مریم و خوار سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے نقش بستی تری اُلفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر وہ تری رہ میں اُڑایا ہم نے تیرائے خانہ ہو اک مرجع عالم دیکھا غم کا تم منہ سے بلند حرص لگایا ہم نے شان حتی تیرے شمال میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو پایا ہم نے 16