درثمین مع فرہنگ — Page 15
اسلام اور بانی اسلام سے عشق ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں۔دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نیشاں دکھلاوے یہ تمز باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا ٹورے ٹور، اٹھو دیکھو سنا یا ہم نے اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھا یا ہم نے تھک گئے ہم تو انہیں باتوں کو کہتے کہتے ہر طرف دھوتوں کا تیر چلایا ہم نے آزمائیش کے لیے کوئی نہ آیا سر چند بر مخالف کو مقابل پر بلا یا ہم نے یونہی غفلت کے لحافوں میں پڑے ہوتے ہیں وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے جبل رہے ہیں یہ سبھی بعضوں میں اور کینوں میں باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے آؤ لوگو ! کہ یہیں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں کورتنی کا بتایا ہم نے آج اُن نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو اُن نوروں کا سر رنگ دلا یا ہم نے جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وُجود اپنا ملا یا ہم نے مصطفے پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور کیا بار خدایا ہم نے 15