درثمین مع فرہنگ — Page 13
ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا اس خدا دانی پر تیر مرحبا مولوی صاحب ! یہی توحید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے؟ جس پر برسوں سے تمھیں اک ناز تھا؟ کیا یہی توحید حق کا راز تھا کیا کبشر میں ہے خدائی کا نیشان؟ الامان ایسے گماں سے الاماں فہم پر اور عقل پر اور ہوش پر ہے تعجب آپ کے اس جوش پر کیوں نظر آتا نہیں راہ صواب ؟ پڑ گئے کیسے یہ آنکھوں پر حجاب ؟ کیا ہی تعلیم فرقاں ہے بھلا؟ کچھ تو آخر چاہیے خوف خدا مومینوں پر گھر کا کرنا گماں ہے یہ کیا ایمانداروں کا نیشاں ؟ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہیں خدام ختم المرسلين شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راه احمد مختار ہیں سارے محکموں پر ہمیں ایمان ہے جان و دل اس راہ پر قربان ہے ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا تم ہمیں دیتے ہو کافیر کا خطاب کیوں نہیں لوگو تمہیں خوف عقاب دے چکے دل اب تین خاکی رہا سخت شورے اوفتاد اندر زمین رحم کن بر خلق اے جاں آفریں کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دکھا تجھ کو سب قدرت ہے اسے رب انوری ر او هام حصہ دوم ص ۷۶۳ مطبوعه ۱۸۹ / روحانی خزائن جلد ۳ ازال او جلد ۳ ص ۵۱۳) 13