درثمین مع فرہنگ — Page 12
وفات مسیح ناصری علایت لام کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال؟ دل میں اُٹھتا ہے میرے سو سو اُبال ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم بارتا ہے اس کو فرقاں سریر اس کے مرجانے کی دیتا ہے خبر وہ نہیں باہر رہا اموات سے ہو گیا ثابت یہ نہیں آیات سے کوئی مردوں سے کبھی آیا نہیں یہ تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں عهد شد از کردگار بے چگوں غور کن در آنهُمْ لا يرجعون اے عزیزو ! سوچ کر دیکھو ذرا موت سے بچتا کوئی دیکھا بھلا ؟ یہ تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں چل بسے سب انبیاء و راستان ہاں نہیں پاتا کوئی اس سے نجات یوں ہی باتیں ہیں بنائیں واہیات کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے ہے یہ دیں یا سیرت کفار ہے بر خلاف نص یہ کیا جوش ہے سوچ کر دیکھو اگر کچھ ہوش ہے کیوں بنایا ابن مریم کو خُدا منت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا کیوں بنایا اس کو باشن کبیر غیب دان و خالق و حتی و قدیر مرگئے سب ، پر وہ مرنے سے بچا اب تلک آئی نہیں اس پر فتا ے (سورہ انبیاء ، ۹۶ ) 12