درثمین مع فرہنگ — Page 11
وید اُن کو سودا ہوا ہے ویدوں کا اُن کا دل مبتلا ہے ویدوں کا آریو یا اس قدر کرو کیوں خوش کیا نظر آگیا ہے ویدوں کا؟ نہ کیا ہے نہ کر سکے پیدا عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو بے خدا کوئی چیز کیونکر ناستک مت کے دید ہیں حامی ہو سوچ لو یہ خُدا ہے ویدوں کا! کیوں بھروسہ کیا ہے ویدوں کا؟ یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا بس یہی مدعا ہے ویدوں کا ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا سرمه چشم آرید اریہ ص ۱۷۲ ، مطبوعه شاه / روحانی خزائن جلد ۲ ص ۲۳۲) 11