درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 10

سرائے خام دُنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں ہوتے ہیں ڈر کے ایسے کہ بس مر ہی جاتے ہیں جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں کیا کیا نہ اُن کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں پر اُن کو اس سیجن کی طرف کچھ نظر نہیں آنکھیں نہیں ہیں کان نہیں دل میں ڈر نہیں اُن کے طریق و دھرم میں کو لاکھ ہو فساد کیسا ہی ہو جہاں کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد گولاکھ پر تب بھی مانتے ہیں اُسی کو ہیر سبب کیا حال کر دیا ہے تعصب نے بے غضب دل میں مگر یہی ہے کہ مرنا نہیں کبھی تک اس عیال و قوم کو کرنا نہیں کبھی اسے ٹافیاں وفا نہ گنڈ ہیں سرائے خام دنیائے دُوں نماند و نماند به کسی ندام ہے سرمه چشم آرید - صده مطبوع سن / روحانی خزائن جلد ۲ ص۱۳۵) 10