درثمین مع فرہنگ — Page 7
اوصاف قرآن مجید نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ اتوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفیٰ نکلا یا الہی ! تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان کے ساری دُکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کیس سے اُس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا زندگی اکیسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جن کار اس نور کے ہوتے بھی دل اعظمی نکلا جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۷ مطبوعہ ششده | روحانی خزائن جلد ا ص ۳۰۵) 7