درثمین مع فرہنگ — Page 177
میں اگر کاذب ہوں کتابوں کی دیکھوں گا سنرا پر اگر صادق ہوں پھر کیا عذر ہے روز شمار اس تَعَضُّب پر نظر کرنا کہ میں اسلام پر ہوں خدا، پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر بار بار ئیں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار جاتے وہ تقوی جو کہتے تھے کہاں تختی ہوئی ساربان نفس دون نے کس طرف پھیری نہار کام جو دکھلائے اس خلاق نے میرے لیئے کیا وہ کر سکتا ہے جو ہو مفتری شیطاں کا پیار میں نے روتے روتے دامن کر دیا تر درد سے اب تلک تم میں وہی خشکی رہی با حالِ زار ہائے یہ کیا ہو گیا عقلوں پہ کیا پھر پڑے ہو گیا آنکھوں کے آگے اُن کے دن تاریک و تار یا کسی مخفی گنہ سے شائت اعمال ہے جس سے عقلیں ہو گئیں بے کار اور اک مُردہ وار گردنوں پر اُن کی ہے سب عام لوگوں کا گنہ جن کے وعظوں سے جہاں کے آگیا دل میں خیار عام ایسے کچھ سوتے کہ مچھر جاگے نہیں ہیں اب تک ایسے کچھ بھولے کہ پھر میاں نوا گردن کا ہار نوع انساں میں بدی کا ختم ہونا ظالم ہے کہ بدی آتی ہے اُس پر جو ہو اس کا کاشت کار چھوڑ کر فرقاں کو آثار مخالف پر جسے سر میں کم اور بخاری کے دیا ناحق کا بار جبکہ ہے امکان کذب و کج روی اخبار میں پھر حماقت ہے کہ رکھیں سب انہیں پر انحصار 177