درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 119

و دہ رہ جو یار گم شدہ کو کھینچ لاتی ہے و دہ رہ جو جام پاک یقین کا پلاتی ہے دہ رہ جو اس کے ہونے یہ محکم دلیل ہے وہ ره وُہ رہ جو اس کے پانے کی کامل سبیل ہے اس نے ہر ایک کو دہی رستہ دکھا دیا جتنے شکوک و شبہ تھے سب کو مٹا دیا افسردگی جو سینوں میں تھی دُور ہو گئی ظلمت جو تھی دلوں میں وہ سب نور ہو گئی جو دور تھا خیزاں کا وہ بدلا بہار سے چلنے لگی نسیم عنایات یار جاڑے کی رُت ظہور سے اس کے پلٹ گئی عشق خُدا کی آگ ہر اک دل میں آٹ گئی یتنے درخت زندہ تھے وہ سب ہوئے ہرے پھل اس قدر پڑا کہ وہ میووں سے کر گئے موتیوں سے اُس کی پردے وساوس کے پھٹ گئے جو کفر اور رفیق کے بیٹے تھے کٹ گئے 119 وساوس