درثمین مع فرہنگ — Page 120
قرآن خدا نم ہے خُدا کا کلام ہے! بے اس کے معرفت کا حمن ناتمام ہے جو لوگ شک کی سردیوں سے تھر تھراتے ہیں اُس آفتاب سے وہ عجب دھوپ پاتے ہیں دنیا میں جس قدر ہے مذاہب کا شور و شر سب قصہ گو ہیں نور نہیں ایک ذرہ بھر پر یہ کلام نُورِ خدا کو دیکھاتا ہے اُس کی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے جس دیں کا صرف قصوں سارا نگار ہے دہ دیں نہیں ہے ایک فسانہ گزار ایک فسانہ گزار ہے سچ پوچھٹے تو قصوں کا کیا اعتبار ہے قصوں میں جھوٹ اور خطا ہے ہیں وہی کہ صرف وہ اک قصہ گو نہیں بی شمار ہے زندہ نشانوں سے دکھاتا ہے ہے ہیں وہی کہ جس کا خُدا آپ ہو عیاں ره یقتیں خود اپنی قدرتوں سے دکھاوے کہ ہے کہاں 120