درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 93

شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں اُن کی ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا اُس نے ہے کچھ دکھانا اس سے کھیا ہی ہے ان سے دو چار ہونا عزت ہے اپنی کھونا ان سے ملاپ کرنا راہ دیا یہی ہے توتیں اور اور صفتیں روحوں اور ذرات اجسام میں ہیں وہ سب قدیم سے خود بخود ہیں۔پریشر سے وہ حاصل نہیں ہوئیں۔پھر ایسا پریشر کس کام کا ہے اور اس کے وجود کا ثبوت کیا ہے ؟ اور کیا وجہ کہ اس کو پرمیشر کہا جائے اور کامل اطاعت کا وہ کیونکر متقی ہو سکتا ہے۔جبکہ اس کی پرورش کامل نہیں اور جن طاقتوں کو اس نے آپ نہیں بنایا اُن کا علم اس کو کیونکر ہے ؟ اور جبکہ وہ ایک روح کے پیدا کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا تو کن معنوں سے اس کو سر کسی مان کہا جاتا ہے جبکہ اس کی سکتی صرف جوڑنے تک ہی محدود ہے۔میرا دل تو ہی گواہی دیتا ہے کہ یہ تاپک تعلیمیں دیدیں ہرگز نہیں ہیں۔پر میشتر تو بھی پر پیش رہ سکتا ہے جبکہ ہر اک فیض کا وہی میرا ہو۔بیدانت والوں نے بھی اگر چہ غلطیاں کیں مگر تھوڑی سی اصلاح سے ان کا مذہب قابل اعتراض نہیں رہتا۔مگر دیانند کا مذہب توسرا سر گنده معلوم ہوتا ہے کہ دیانند نے ان جھوٹے فلسفیوں اور منطقیوں کی پیروی کی ہے جن کو دی سے کچھ بھی تعلق نہ تھا بلکہ وید کے در پردہ پکے دشمن تھے۔اسی وجہ سے ان کے مذہب میں پریشر کی وہ تعظیم نہیں جو ہونی چاہیئے۔اور نہ پاک دل جوگیوں کی طرح پر یشر سے ملنے کے لئے مجاہدات کی تعلیم ہے۔صرف تعصب اور خدا کے پاک نبیوں کو کینہ اور گالیاں دنیا ہی یہ شخص بدنصیب اپنے چیلوں کو سکھا گیا ہے۔بلکہ یوں کہو کہ ایک زہر کا پیالہ پلاگیا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارا سب اعتراض دیانند کے فرضی ویدوں پر ہے نہ خدا کی کسی کتاب پر۔واللہ اعلم۔منہ 93