درثمین مع فرہنگ — Page 94
بس اسے میرے پیارو ! عقبیٰ کو مت پیارو راس دیں کو پاؤ یارو بدر الدجی یہی ہے میں ہوں ستم رسیدہ اُن سے جو ہیں کہ میده شاہد ہے آب دیدہ واقف بڑا یہی ہے میں دل کی کیا سناؤں کس کو یہ غم بتاؤں دکھ درد کے ہیں جھگڑے مجھ پر بہلا یہی ہے دیں کے غموں نے مارا ، اب دل ہے پارہ پارہ دلبر کا ہے سہارا ، ورنہ فنا یہی ہے ہم مرچکے ہیں غم سے کیا پوچھتے ہو ہم سے انس یار کی نظر میں شرط وفا یہی ہے برباد جائیں گے ہم گر وہ نہ پائیں گے ہم رونے سے لائیں گے ہم دل میں رکھا ہی ہے وہ دن گئے کہ راتیں کٹتی تھیں کر کے باتیں اب موت کی ہیں گھاتیں غم کی گتھا ہی ہے غم جلد آ پیارے ساقی ! اب کچھ نہیں ہے باقی دے شربت تلاقی حرص و ہوا ہی 94