درثمین مع فرہنگ — Page 84
یہ سب نشاں ہیں جن سے دیں اب تلک ہے تازہ اے گرنے والو دورو دیں کا عصا ہی ہے کیس کام کا وہ دیں ہے جس میں نشاں نہیں ہے دیں کی میرے پیارو ! کہیں قبا یہی ہے افسوس آریوں پر جو ہو گئے ہیں شیر وہ دیکھ کر ہیں ٹینکر ظلم و جفا ہی ہے معلوم کر کے سب کچھ محروم ہو گئے ہیں کیا ران نیوگیوں کا ذہن رسا یہی ہے راک ہیں جو پاک بندے راک ہیں دلوں کے گندے جیتیں گے صادق آخر حق کا مزا ہی ہے ان آریوں کا پیشہ ہر دم ہے بد زبانی ویدوں میں آریوں نے شاید پڑھا یہی ہے پاکوں کو پاک فطرت دیتے نہیں ہیں گالی پر ران رسید دلوں کا شیوہ سدا ہی ہے افسوس سب و توہیں سب کا ہوا ہے پیشہ کیس کو کہوں کہ ان میں سہرزہ درا ہی ہے 84