درثمین مع فرہنگ — Page 83
دنیا میں اس کا ثانی کوئی نہیں ہے شربت پی لو تم اس کو یارو ! آب بقا ہی ہے اسلام کی سچائی ثابت ہے جیسے سُورج پر دیکھتے نہیں ہیں دشمن۔بلا ہی جب کھل گئی سچائی پھر اس کو مان لینا ہے نیکوں کی ہے یہ فضلت او حیا ہی ہے جو ہو مفید لینا ، جو بہ ہو ، اس سے بچنا عقل و خرد یہی ہے ، فہم و ذکا یہی ہے ملتی ہے بارش ہی راس دیں سے آسمانی اسے طالبان دولت ! ظل ہما یہی ہے سب دیں ہیں اک فسانہ، شیرکوں کا آشیانہ اُس کا ، جو ہے یگانہ، چہرہ نما ہی ہے کو کو نشاں دیکھا کر لاتا ہے وہ بلا کر مجھ کو جو اُس نے بھیجا بس منگا یہی ہے کرتا ہے معجزوں سے وہ یار دیں کو تازہ اسلام کے چمن کی بادِ صبا ہی ہے 83