درثمین مع فرہنگ — Page 85
آخر یہ آدمی تھے پھر کیوں ہوئے درندے کیا جون ان کی بگڑی یا خود قضا ہی ہے جس آریہ کو دیکھیں تہذیب سے ہے عاری کیس کیس کا نام لیویں ہر سو کہا نہیں ہے دیکھو کی بد زبانی کارد ہوئی تھی اُس پر پھر بھی نہیں سمجھتے حمق وخطا ہی ہے اپنے کئے کا ثمرہ لیکھو نے کیسا پایا آخر خُدا کے گھر میں بد کی سزا نہیں ہے نیوں کی ہتک کرنا اور گالیاں بھی دینا کتوں ساکھوں منہ تخیم نا ہی ہے بیٹھے بھی ہو کے آخر نشتر ہی ہیں چلاتے ان تیرہ باطنوں کے دل میں دعا یہی ہے جاں بھی اگرچه دیویں ان کو بطور احساں عادت ہے ان کی کفراں ، رنج وعنا ہی ہے ہندو کچھ ایسے بگڑے دل پر ہیں بغض رکہیں سے ہر بات میں ہے تو ہیں طرز ادا ہی ہے 85