دُرِّثمین اُردو — Page 111
دن بہت ہیں سخت اور خوف و خطر در پیش ہے پر یہی ہیں دوستو اُس یار کے پانے کے دن دیں کی نصرت کے لئے اک آسماں پر شور ہے آب گیا وقتِ خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن چھوڑ دو وہ راگ جس کو آسماں گاتا نہیں اب تو ہیں اے دل کے اندھو دیں کے گن گانے کے دن خدمتِ دیں کا تو کھو بیٹھے ہو بغض و کیں سے وقت آب نہ جائیں ہاتھ سے لوگو! یہ پچھتانے کے دن مشتهره پیسه اخبار ۳۱ مارچ ۱۹۰۶ ء 000