دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 110

تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ دیں میت ہے اور یہ دن ہیں دفنانے کے دن اک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں دل چلا ہے ہاتھ سے لا جلد ٹھہرانے کے دن میرے دل کی آگ نے آخر دکھایا کچھ اثر آ گئے ہیں اب زمیں پر آگ بھڑ کانے کے دن جب سے میرے ہوش غم سے دیں کے ہیں جاتے رہے طور دُنیا کے بھی بدلے ایسے دیوانے کے دن چاند اور سورج نے دکھلائے ہیں دو داغ کسوف پھر زمیں بھی ہو گئی بے تاب تھرانے کے دن کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا لرزہ آیا اس زمیں پر اُس کے چلانے کے دن صبر کی طاقت جو تھی مجھ میں وہ پیارے اب نہیں میرے دلبر اب دکھا اِس دل کے بہلانے کے دن دوستو اُس یار نے دیں کی مصیبت دیکھ لی آئیں گے اس باغ کے اب جلد لہرانے کے دن اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن